ڈریپ کا جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن

ڈریپ کا جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن 0

اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک بھر میں جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ ترجمان ڈریپ کے مطابق یہ کارروائی محفوظ اور مؤثر ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

سی ای او ڈریپ کے مطابق لاہور میں غیر قانونی طور پر “یوروگرافن 76% انجکشن” فروخت کرنے والے افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مذکورہ افراد بغیر لائسنس زائد قیمتوں پر ادویات فروخت کرنے میں ملوث تھے، جس پر ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

ڈریپ کی ٹیم نے لاہور میں ایک نجی اسپتال کے قریب چھاپہ مار کر “لیپیوڈول الٹرا لیکوئڈ” نامی غیر رجسٹرڈ دوا فروخت کرنے والے شخص کو بھی حراست میں لے لیا۔ علاوہ ازیں، میسرز الوالی ڈسٹری بیوشن کمپنی پر چھاپہ مار کر غیر قانونی اشیاء برآمد کی گئیں، کمپنی کو سیل کر دیا گیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

ڈریپ نے اسلام آباد کے کہوٹہ روڈ، انڈسٹریل ٹرائینگل میں ایک فیکٹری پر کارروائی کرتے ہوئے پلاسٹک یورین کلیکشن کنٹینرز ضبط کر لیے۔ ان کنٹینرز کی تیاری بغیر لازمی اسٹیبلشمنٹ لائسنس کے جاری تھی، جو میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 اور ڈریپ ایکٹ 2012 کی خلاف ورزی ہے۔

اسی طرح، اسلام آباد میں ایمبرو فارماسیوٹیکلز پر چھاپہ مار کر غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے طبی آلات برآمد کیے گئے۔ یہ فیکٹری ڈرگ مینوفیکچرنگ لائسنس کی منسوخی کے باوجود کام کر رہی تھی، جس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی اور فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔

ڈریپ نے مارکیٹ میں جعلی پروپیلین گلائکول کی موجودگی پر فوری الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی رپورٹ کے مطابق، بیچ YF01210911 میں زہریلا “ایتھیلین گلائکول (EG)” پایا گیا ہے، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔

سی ای او ڈریپ کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو خام مال کی سخت جانچ پڑتال کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، تاکہ غیر معیاری اور مضر صحت ادویات کی فروخت کو روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں