اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پاکستان اللہ کی رضا اور انسانی جانوں کو بچانے کیلیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
کابینہ اجلاس میں اراکین کو سفارتی کاوشوں پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایران امریکا کے درمیان گفتگو کے بعد جنگ کے بادل ختم ہوئے اور پاکستان کو موقع ملا جنگ کو مستقل امن میں بدل دے، آج بھی دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کیلیے کردار ادا کرتا رہے گا، دنیا کی تاریخ اٹھالیں جنگ رکوانے اور امن قائم کرنے میں کئی کئی سال لگے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ امریکا کے وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر اسمبلی باقر قالیباف اور وزیرخارجہ نے دی، دونوں وفود نے مسلسل 21 گھنٹے براہ راست ایک دوسرے سے گفتگو کی اور میں گواہ ہوں کہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے، 47 سال بعد یہ پہلا موقع تھا دونوں فریق ایک ساتھ بیٹھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے اس کامیابی کیلیے دن رات محنت کی اور یہ ہماری پُرخلوص کاوشوں کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے دونوں فریقین میں سیز فائر اب بھی قائم ہے، دونوں کے درمیان معاملات تھوڑے بہت اٹکے ہیں جنہیں حل کروانے کیلیے کوشش جاری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد امن بات چیت تاریخی واقعہ ہےم اس کے ذریعے مستقل جنگ بندی، ثالثی اور میزبانی کا ایسے وقت میں موقع ملا جب پوری دنیا کی معیشت ہچکولے کھا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جاپان کی وزیراعظم نے فون کر کے جنگ بندی پر مبارک باد دی اور پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا جبکہ یورپ کے کئی سربراہان نے فون کیے اور کاوشوں کو دل سے سراہا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ محنت اللہ نے قوم کی دعاؤں سے قبول کی، اسحاق ڈاراُن کی ٹیم، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے شاباش اور قوم کی طرح سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی فراست اور حکمت سے جنگ بند ہوئی اور عارضی سیز فائر پر اتفاق ہوا، قومی راز رکھنا میری ذمہ داری ہے اور یہ میرے دل میں دفن ہیں مگر میں ایسے لمحات کا میں گواہ ہوں، فیلڈ مارشل اور ٹیم پوری پوری رات جاگی، بعض لمحات ایسے آئے جب بات ٹوٹتے ٹوٹتے پھر سنبھل گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ نازک لمحات میں ایک ایک قدم اٹھایا، دو ممالک کو ہم نے بٹھایا ، 47 سال سے ایک دوسرے کو نہ دیکھنے والے فریق بیٹھے، فیلڈ مارشل اور ڈپٹی وزیراعظم کا کردار تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ دونوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان کے نام تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان کوشش اور محنت کرتا، رب کے آگے جھکتا ہے تو اللہ کی ذات قبول کرتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کے بعد دونوں نے علیحدہ علیحدہ مگر مشترک باتیں کیں، پاکستان کی میزبانی، سیاسی و عسکری قیادت کی بھرپور تعریف کی، شکریہ ادا کیا اور دونوں نے پاکستان کو بھائی قرار دیا اور خلوص کا اعتراف کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا یہ تاریخ نے کردار قوم، قیادت کے نام لکھ دیا، آج جہاں ہمارے سر فخر سے بلند ہیں وہیں عاجزی کے ساتھ اللہ کا شکر بجا لانا ضروری ہے، قوم دیرپا امن کیلیے دعا کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا فرض تھا ساری بات آپ کو بتاؤں کہ عالمی دنیا کیلیے پاکستان نے اپنا نام پیدا کیا ہے، ہم نے اللہ کی رضا اور معصوم جانوں کیلیے خلوص نیت سے کام کیا کیونکہ دین اور دنیا کیلیے اس سے بڑی کوئی خدمت نہیں ہوسکتی۔
قبل ازیں وفاقی کابینہ نے ایران امریکا مذاکرات کے لیے کوششوں پر وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کابینہ کو دورہ سعودی عرب اور دوست ممالک سے رابطوں سے متعلق بھی آگاہ کیا اور بتایا گیا کہ وزیراعظم سعودی عرب کے دورے پر جارہے ہیں۔
اس اہم دورے کے دوران ایران امریکا مذاکرات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کا یہ دورہ آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع ہے، جس میں سعودی اعلیٰ قیادت سے ملاقات میں عالمی امور سمیت خطے کے موجودہ حالات پر بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بریفنگ دی گئی، شرکا نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔






