وزیر خزانہ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا

وزیر خزانہ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا 0

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا اور کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرنا ان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔

بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے جو وہ معزز ایوان کے سامنے پیش کر رہے ہیں، انہوں نے اتحادی جماعتوں کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کی رہنمائی ان کے لیے قابلِ قدر ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں پر حالیہ جارحیت کے جواب میں مسلح افواج نے ایسا فیصلہ کن ردعمل دیا کہ دشمن چند ہی گھنٹوں میں جنگ بندی کی بات کرنے پر مجبور ہو گیا، یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق آج دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی معترف ہے اور پاکستانی فضائیہ کے تھنڈر جیٹس متعدد ممالک کی دلچسپی کا مرکز بن چکے ہیں، جو انہیں اپنی فضائی افواج میں شامل کرنے کے لیے پاکستان سے رابطے میں ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب زرمبادلہ کمانے کا بھی اہم ذریعہ بن رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود ہے تاہم اس معاہدے نے تعلقات کو ایک نئی اور مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق یہ پاکستان کے لیے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بھاری اور مقدس ذمہ داری بھی ہے جس کی ادائیگی کے لیے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے اس پیش رفت پر وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور عسکری و سفارتی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں، دونوں ممالک کی دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی معاشی چیلنجز، روس یوکرین جنگ اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر شدید دباؤ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ بوجھ مکمل طور پر عوام پر منتقل کرتی تو قیمتیں کہیں زیادہ ہوتیں، وزیر خزانہ کے مطابق حکومت نے 128 ارب روپے کی معاشی ڈھال کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا، جسے بعد میں ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے مزید بہتر بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی ضرورت مند طبقات کو پٹرولیم مصنوعات میں ریلیف فراہم کرتی رہے گی۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پنشن کی مد میں 1169 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ملٹری پنشن کے لیے 822 ارب روپے اور سول پنشن کے لیے 272 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

وفاقی حکومت کے سول اخراجات کے لیے 1071 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ہنگامی اور غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجموعی جاری اخراجات کا حجم 17 ہزار 495 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1050 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں