ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوج کے طویل فاصلے تک نشانہ لگانے والے میزائلوں کا ذخیرہ انتہائی کم ہوگیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاکہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا نے انتہائی درست نشانہ لگانے والے تمام میزائلوں کو بظاہر استعمال کرلیا ہے۔
ان میزائلوں کی ڈرامائی کمی کے بعد اگر امریکی صدر نے ایران پر بڑے حملوں کا اغاز کیا تو انہیں بمباری کے خطرناک مشنز پر انحصار کرنا پڑے گا۔
امریکی ذرائع کے مطابق میزائلوں کےکم ہوتے ذخائر روس اور چین سمیت دیگر حریفوں کو روکنےکی امریکی صلاحیت کو بھی محدود کر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ٹرمپ کے فوجی مشیروں نے امریکی ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش ظاہر کی تھی۔
یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھاکہ امریکی حملوں کے بعد سے اردن، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے ایرانی حملوں کی زد میں ہیں،گولہ بارود کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، ایران پر کسی بڑے حملے کے بعد ایران کی شدید جوابی کارروائی ہوسکتی ہے۔






