تاجکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق 26 نومبر کی رات افغانستان کی جانب سے تاجک سرحد کے نزدیک ایک مزدور کیمپ پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین چینی شہری جاں بحق ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں گرینیڈ اور اسلحہ سے لیس ڈرون استعمال کیا گیا، جس نے ایل ایل سی شاہین ایس ایم کے عملے کو نشانہ بنایا۔
یہ واقعہ ’یول‘ بارڈر ڈٹachment کے علاقے میں موجود فرسٹ بارڈر گارڈ پوسٹ ’استقلال‘ کی حدود میں پیش آیا، جہاں غیر ملکی مزدور تعمیراتی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ تاجک حکام کا کہنا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، تاہم افغانستان میں موجود جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تاجکستان نے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا اور افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدی سیکیورٹی کو مستحکم بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔






