لاڑکانہ: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات اور آئینی ضمانتوں کو چھیڑنے کی کوشش ’’آگ سے کھیلنے‘‘ کے مترادف ہے۔ پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس کی مرکزی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وفاق کے اختیارات کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی شدید مخالفت کی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ماضی میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالیاتی حقوق میں تبدیلی کی تجویز دی تھی، تاہم پیپلز پارٹی نے اسے مسترد کیا جس کے باعث یہ نکات آئینی ترمیم کے مسودے کا حصہ نہ بن سکے۔ انہوں نے فخر ظاہر کیا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کی تاریخ کا ’’سب سے بڑا ڈیجیٹل جلسہ‘‘ منعقد کر کے تاریخ رقم کی ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ملک اس وقت سیاسی بحران کا شکار ہے اور اسے حل کرکے ملک کو مشکلات سے نکالنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ انقلابی قانون سازی کرتی ہے اور 18ویں ترمیم 1973 کے آئین کے بعد سب سے مضبوط آئینی پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ن لیگ نے ایک وفد کے ذریعے نئی آئینی ترمیم لانے کا عندیہ دیا تھا جس میں صوبوں کے آئینی تحفظ کو کمزور کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں، مگر پیپلز پارٹی نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان تجاویز کو روک دیا۔ بلاول نے کہا کہ آئینی عدالت کا قیام ’’چارٹر آف ڈیموکریسی‘‘ کے اہم نکات کی تکمیل ہے اور اس سے صوبوں کو برابری کی نمائندگی ملی، جو ایک تاریخی کامیابی ہے۔
عدلیہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں عدالتوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کروایا مگر اب امید ہے کہ نئی آئینی عدالت عوام کو فوری انصاف فراہم کرے گی۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ کسی پروپیگنڈے میں نہ آئیں اور یقین رکھیں کہ پیپلز پارٹی ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس سے وفاق کمزور ہو۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی قیادت کے سندھ سے متعلق بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صوبے ایک خاندان کی طرح ہیں اور قوم متحد ہو کر دہشت گردوں اور دشمن قوتوں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔






