اسلام آباد: پاکستان کی عوامی سیاست کو ایوانوں سے نکال کر گلی کوچوں تک پہنچانے والے اور قومی معیشت کی بنیاد رکھنے والے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز اور دعائیہ محافل کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے پہلے عوامی رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے عام آدمی کو جمہوریت کی اہمیت سے روشناس کرایا اور سیاست کو عوام کے قریب لایا۔ وہ 5 جنوری 1928 کو سندھ کے شہر لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور اپنی غیر معمولی سیاسی بصیرت کے باعث قلیل مدت میں قومی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
انہوں نے یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، بعد ازاں وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سکندر مرزا کی کابینہ میں خدمات انجام دیں جبکہ صدر ایوب خان کے دور میں وزیر خارجہ کے طور پر بھی اہم کردار ادا کیا۔
1967 میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ دے کر عوامی سطح پر بھرپور مقبولیت حاصل کی۔ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان کو متفقہ آئین ملا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی گئی، پاکستان اسٹیل مل قائم ہوئی اور کئی قومی پیداواری ادارے وجود میں آئے۔
1977 کے عام انتخابات کے بعد سیاسی بحران اور بدامنی کے تناظر میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا۔ بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی اور 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔
اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا کر عوامی سیاست کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وقت نے ثابت کیا کہ ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس میں عدالتی عمل کو غیر منصفانہ قرار دیا جانا تاریخی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔






