تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ جب تک امریکا اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈے برقرار رکھے گا، اس وقت تک ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کا تعاون ممکن نہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے پیر کو اپنے خطاب میں کہا کہ واشنگٹن کے اقدامات خطے میں استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “امریکی کبھی کبھار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ تعاون کے خواہاں ہیں، مگر ان کی پالیسی ہمیشہ اسرائیل کی حمایت اور خطے میں مداخلت پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے ایران ایسے تعاون کو قبول نہیں کر سکتا۔”
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اثر و رسوخ کم کیے بغیر تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔ ان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ اکتوبر میں کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے اگر تہران بھی مثبت رویہ اپنائے۔ تاہم، ایران کی جانب سے یہ شرط مسترد کر دی گئی کہ وہ اپنے جوہری پروگرام خصوصاً یورینیم کی افزودگی کو صفر تک لائے۔
مبصرین کے مطابق، ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کی ایک بڑی وجہ اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی اور تہران کے جوہری پروگرام پر مغربی دباؤ ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک طویل رکاوٹ بن چکا ہے۔






