پی آئی اے انجینئرنگ ونگ کی اچانک ہڑتال سے پروازیں متاثر، انتظامیہ اور انجینئرز آمنے سامنے

پی آئی اے انجینئرنگ ونگ کی اچانک ہڑتال سے پروازیں متاثر، انتظامیہ اور انجینئرز آمنے سامنے 0

کراچی: قومی ایئرلائن پی آئی اے کے انجینئرنگ ونگ نے اچانک کام چھوڑ دیا، جس کے باعث ملک کے مختلف ہوائی اڈوں پر پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ متعدد طیارے گراؤنڈ ہونے سے آپریشنل نظام متاثر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز پاکستان کے مطابق، انجینئرز نے طیاروں کی تکنیکی تصدیق روک دی ہے۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیفٹی خدشات اور ضوابط کی خلاف ورزیوں کے باعث کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، غیر محفوظ حالات میں کام ممکن نہیں، اور طیارے صرف مکمل سیفٹی کلیئرنس کے بعد ہی ریلیز کیے جائیں گے۔

سوسائٹی نے وضاحت کی ہے کہ یہ کوئی احتجاج یا ہڑتال نہیں بلکہ ضابطہ جاتی کارروائی ہے، تاکہ پروازوں کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسافروں کی سلامتی اولین ترجیح ہے، اور انجینئرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قوانین پر مکمل عمل کریں۔

دوسری جانب پی آئی اے انتظامیہ نے انجینئرز کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز پاکستان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق، یہ ایک منظم کوشش ہے جس کا مقصد قومی ایئرلائن کی نجکاری کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

انتظامیہ نے کہا کہ سیفٹی کا بہانہ بنا کر ایک منصوبے کے تحت بیک وقت کام چھوڑنا مذموم سازش ہے، جس کا مقصد پی آئی اے کے آپریشن کو متاثر کرنا اور انتظامیہ پر ناجائز دباؤ ڈالنا ہے۔

ترجمان کے مطابق، پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے، جس کے تحت ہڑتال یا کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ ایسے تمام عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جو اس عمل میں ملوث پائے گئے۔

پی آئی اے کے ترجمان نے مزید کہا کہ مسافروں کو ریلیف دینے کے لیے متبادل انجینئرنگ خدمات دوسری ایئرلائنز سے حاصل کی جا رہی ہیں اور جلد ہی تمام پروازیں معمول کے مطابق روانہ کر دی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں