ڈھائی لاکھ افراد کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف، زیادہ تر افغان شہری نکلے

ڈھائی لاکھ افراد کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف، زیادہ تر افغان شہری نکلے 0

اسلام آباد — خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے نادرا نے ڈھائی لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈز کی نشاندہی کی ہے، جن میں اکثریت غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، اور جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افراد اب نادرا کے ریڈار پر ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پشین، چمن اور کوئٹہ کے علاقوں میں بڑی تعداد میں افغان باشندوں کو پاکستانی شہریوں کی فیملی ٹری میں شامل کیا گیا۔

یہ جعلسازی مبینہ طور پر ایجنٹس کے ذریعے بھاری رقوم کے عوض کی گئی، جنہوں نے افغان باشندوں کو پاکستانی شناخت دینے کے لیے جعلی ریکارڈ تیار کرایا۔

ذرائع کے مطابق، نادرا کے خصوصی سافٹ ویئر نے فیملی ٹری کمپوزیشن کی بنیاد پر مشکوک شناختی کارڈز کی نشاندہی کی۔ اس نظام کے تحت ایسے تمام شناختی کارڈز کو بلاک کیا جا رہا ہے جو مشکوک ثابت ہوں۔

نادرا حکام نے واضح کیا ہے کہ بلاک شدہ شناختی کارڈ رکھنے والے تمام افراد کو فوری طور پر نادرا دفاتر میں جا کر تصدیق کرانا ہوگی، بصورت دیگر ان کے شناختی کارڈز مستقل طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے۔

دوسری جانب، اسلام آباد پولیس نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کے دوران 69 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز محمد شعیب خان کی نگرانی میں تھانہ سبزی منڈی کے مختلف علاقوں میں گرینڈ سرچ اور کومبنگ آپریشن کیا گیا۔

پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران 221 افراد، 65 دکانوں، 43 موٹر سائیکلوں اور 31 گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو حراست میں لے کر تھانہ منتقل کیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشن کا مقصد جرائم کی بیخ کنی اور غیر قانونی قیام کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
آئی جی اسلام آباد نے پورے ضلع میں اس نوعیت کے مزید گرینڈ سرچ آپریشنز کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں