پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری، عدالت کا گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری، عدالت کا گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم 0

اسلام آباد — اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

منگل کے روز انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سابق وفاقی وزرا شبلی فراز اور عمر ایوب کے ساتھ ساتھ علی نواز اعوان کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے حکم دیا کہ تمام ملزمان کو 11 نومبر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ مقدمے میں ملزمان پر دہشت گردی، اشتعال انگیزی اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد ہیں۔ عدالت کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کو متعدد بار طلب کیے جانے کے باوجود وہ پیش نہیں ہوئے۔

اسی روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف آڈیو لیک کیس میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

ایڈیشنل سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ علی امین گنڈا پور عدالت میں پیش نہیں ہوئے، لہٰذا انہیں گرفتار کرکے پیش کیا جائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

عدالت نے آج علی امین گنڈا پور پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے سماعت مقرر کر رکھی تھی، تاہم ان کی غیر حاضری کے باعث کارروائی مؤخر کر دی گئی۔

یاد رہے کہ 2022 میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق علی امین گنڈا پور کی مبینہ آڈیو لیک منظرعام پر آئی تھی، جس میں وہ مبینہ طور پر اسلحے کی دستیابی سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ اس معاملے پر تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں