چین نے امریکا سے زرعی مصنوعات کی محدود خریداری دوبارہ شروع کر دی

چین نے امریکا سے زرعی مصنوعات کی محدود خریداری دوبارہ شروع کر دی 0

بیجنگ: چین نے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں نرمی کے اشارے دیتے ہوئے امریکی زرعی اجناس کی محدود خریداری دوبارہ شروع کر دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین، جو امریکی کسانوں کے لیے سب سے بڑی منڈی سمجھا جاتا ہے، نے تجارتی جنگ کے دوران امریکی گندم اور سویا بین کی خریداری بند کر رکھی تھی اور متبادل ذرائع سے درآمدات جاری رکھی تھیں۔ تاہم اب بیجنگ نے امریکی گندم کی دو کھیپیں بک کر لی ہیں، جو گزشتہ سال اکتوبر کے بعد پہلی خریداری ہے۔

ذرائع کے مطابق چین نے دسمبر میں ترسیل کے لیے تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار ٹن امریکی گندم خریدی ہے، جس میں ایک کھیپ امریکی نرم سفید گندم اور دوسری بہاری گندم پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین نے امریکا سے سورگم (دانہ دار فصل) کی ایک ترسیل بھی منگوائی ہے۔

بیجنگ کی جانب سے یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین نے امریکی درآمدات پر عائد جوابی محصولات، بشمول زرعی مصنوعات، کو جزوی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم امریکی سویا بین پر اب بھی 13 فیصد ٹیکس برقرار ہے۔

سنگاپور میں مقیم اناج کے ایک تاجر کے مطابق یہ قدم زیادہ تر سیاسی اشارہ ہے کہ چین امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کا خواہاں ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں امریکی گندم دیگر ذرائع کے مقابلے میں مہنگی ہے۔

چینی زرعی کاروباری انجمن کے سربراہ کے مطابق شنگھائی میں ایک بڑی درآمدی نمائش کے دوران چینی ریاستی کمپنی “کوفکو” نے امریکی سویا بین کی خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے، تاہم تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ چین 2025 کے اختتام تک کم از کم 1 کروڑ 20 لاکھ ٹن امریکی سویا بین خریدے گا اور آئندہ تین برسوں میں سالانہ 2 کروڑ 50 لاکھ ٹن کی خریداری جاری رکھے گا، تاہم بیجنگ نے ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سویا بین پر 13 فیصد ٹیکس برقرار رکھنے سے امریکی اجناس نسبتاً مہنگی ہیں، جس کی وجہ سے چینی خریدار برازیلی ترسیلات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں