حکومت کا 27ویں آئینی ترمیمی بل میں مزید ترامیم شامل کرنے کا فیصلہ

حکومت کا 27ویں آئینی ترمیمی بل میں مزید ترامیم شامل کرنے کا فیصلہ 0

اسلام آباد: حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل میں مزید ترامیم لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جو قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ اضافی ترامیم کی الگ فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں، جبکہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیمی بل میں نئی شقوں کے اضافے پر غور جاری ہے، جس کے بعد آئینی مسودے کی کل شقوں کی تعداد 59 سے بڑھ کر 62 ہونے کا امکان ہے۔ ایک اہم تجویز کے مطابق “چیف جسٹس” کی جگہ “چیف جسٹس آف پاکستان” کی اصطلاح شامل کی جائے گی تاکہ قانونی ابہام کو دور کیا جا سکے۔

اسی طرح آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 6، جو سنگین غداری سے متعلق ہے، میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترمیم کے تحت بغاوت یا غیر آئینی اقدام کی کوئی بھی توثیق کسی عدالت بشمول وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ نہیں کر سکے گی۔

ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد نے سینیٹ اجلاس میں تمام سینیٹرز کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ ترامیم آئینی عدالت کے ڈھانچے اور عدالتی عہدوں کی وضاحت سے متعلق ہیں، جنہیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد نافذ العمل بنایا جائے گا۔

حکومتی ذرائع نے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن کی گیارہ ترامیم بھی ایجنڈے میں شامل ہیں، اور نئی ترامیم پیش کرنے سے قبل وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل سینیٹ دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے چکا ہے۔ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے پیش کردہ بل کی حمایت میں 64 ارکان نے ووٹ دیا، جن میں پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان بھی شامل تھے، جبکہ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے منحرف سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے استعفے پر کارروائی روک دی گئی ہے، چیئرمین سینیٹ نے استعفے پر دستخط نہیں کیے، اور آرٹیکل 63 اے کے تحت ریفرنس بھی تاحال نہیں بھجوایا جا سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں