واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک ایٹمی ہتھیار نکالنے کے قریب تھے، تاہم ان کی مداخلت نے ممکنہ جنگ کو روک دیا۔
امریکا سعودی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ امن کے قیام کے لیے تاریخی اقدامات کر رہے ہیں اور اب تک 8 جنگیں رکوا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں تنازعات کو حل کرنے میں ماہر ہوں، پاکستان اور بھارت سے کہا کہ اگر جنگ کی تو 350 فیصد ٹیرف لگا دوں گا، یہ سن کر دونوں رک گئے۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو تنبیہ کی کہ ایٹمی حملے ناقابلِ تصور نتائج کا سبب بنیں گے۔ ’’میں نے دونوں ممالک سے کہا کہ اگر جنگ ہوئی تو تجارت نہیں ہوگی، میں نہیں چاہتا تھا کہ ایٹمی دھماکوں کے بادل لاس اینجلس تک پہنچیں۔‘‘
امریکی صدر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں فون کرکے جنگ رکوانے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچ گئیں۔ دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی انہیں کال کی اور کہا کہ وہ جنگ نہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ نے خطاب میں مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد کی درخواست پر وہ سوڈان کے تنازع پر بھی کام شروع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈان اب ان کی ترجیح بن چکا ہے، کیونکہ وہاں کی صورتحال بے قابو ہو رہی تھی۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ سوڈان ہم سب کے لیے بہت اہم ہے اور ہم اس پر سنجیدگی سے کام کریں گے۔‘‘






