افغان طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں نے افغانستان کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا

افغان طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں نے افغانستان کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا 0

کابل/ماسکو: افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی سرپرستی، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور سخت گیر حکومتی پالیسیوں نے طالبان انتظامیہ کو عالمی برادری سے مکمل طور پر دور کر دیا ہے۔ متعدد ممالک نے طالبان حکومت پر عدم اعتماد برقرار رکھتے ہوئے انہیں بین الاقوامی پلیٹ فارمز سے الگ رکھنے کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق ماسکو میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں بھی افغانستان کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ اجلاس میں پاکستان، چین، بھارت اور دیگر رکن ممالک شریک ہوئے، تاہم طالبان حکومت کا کوئی نمائندہ شامل نہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اقتصادی تعاون، تجارت, سرمایہ کاری، ثقافتی تعلقات اور انسانی ہمدردی جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے، لیکن افغانستان کی مسلسل غیر موجودگی نے یہ واضح کر دیا کہ عالمی سطح پر طالبان انتظامیہ کو ابھی تک تسلیم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اقتصادی تجزیہ کار عبدالظہور مدبر کا کہنا ہے کہ افغانستان کی اہم جغرافیائی حیثیت اور ٹرانزٹ کوریڈور کی موجودگی کے باوجود طالبان کی سخت گیر پالیسیاں انہیں علاقائی تعاون سے الگ رکھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق شدت پسندی اور عوامی حقوق کی پامالی نے افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم و ملازمت پر پابندی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پناہ گاہیں عالمی برادری کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ طالبان حکومت کے خلاف مزید سخت سفارتی اور اقتصادی اقدامات پر غور کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں