غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ تازہ حملوں میں شہید ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 87 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق پہلا حملہ شمالی غزہ میں ایک کار پر کیا گیا، جس کے بعد وسطی علاقے دیرالبلح اور النصیرات پناہ گزین کیمپ میں مزید حملے ہوئے۔ غزہ شہر میں ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔ العشیفا اسپتال کے ایم ڈی رامی مہنّا کے مطابق یہ حملہ رِمال محلے میں پیش آیا۔
دیرالبلح میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک خاتون سمیت کم از کم تین افراد شہید ہوئے۔ ایک عینی شاہد خالد ابو حطب نے بتایا کہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ دھواں پورے علاقے پر چھا گیا اور پڑوسی کے گھر کی بالائی منزل مکمل تباہ ہوگئی۔
النصیرات پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک عمارت کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ وہاں موجود انس السلول کے مطابق دھماکے کے بعد ہر شخص ملبے اور خاک میں اٹا ہوا تھا، زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے بعد اسرائیل اب تک 497 مرتبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں اب تک 342 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
فلسطینی گروہ حماس نے اسرائیل پر من گھڑت الزامات کی آڑ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے امریکا، قطر اور مصر سمیت ثالثوں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نہ صرف جنگ بندی کی شرائط متاثر کر رہا ہے بلکہ سرحدی حدود سے بھی تجاوز کر رہا ہے۔
حماس نے مطالبہ کیا کہ امریکا اپنے وعدوں پر عمل کرے اور اسرائیل کو جنگ بندی کی پابندی پر مجبور کرے، تاکہ اس کے حملے روک کر شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔






