پشاور کے علاقے صدر میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں نے صبح کے وقت خودکش حملہ کیا، جسے الرٹ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ حملے کے آغاز میں گیٹ پر ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا، جس کے نتیجے میں ایف سی کے 3 اہلکار شہید اور 5 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ایل آر ایچ منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق خودکش دھماکے کے فوراً بعد دو دہشت گرد ہیڈکوارٹر کے اندر داخل ہونے کی کوشش میں تھے، تاہم الرٹ اہلکاروں نے انہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر دہشت گرد اندرونی بیرکوں تک پہنچ جاتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا، مگر جوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر بڑا نقصان ہونے سے بچا لیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں دہشت گرد نوجوان تھے اور خودکش جیکٹس سے لیس تھے۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب ہیڈکوارٹر کے اندر پریڈ جاری تھی، جہاں 450 اہلکار موجود تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل ہدف یہی پریڈ تھی۔
دھماکوں کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا، داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے جبکہ پاک فوج اور ایف سی کے جوان آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور صدر روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حملہ آوروں کے سہولت کاروں کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔






