گلگت بلتستان حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت آج رات 12 بجے مکمل ہو گئی، جس کے بعد تمام وزراء، مشیران اور کوآرڈینیٹرز کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا۔ اس حوالے سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن پر سیکرٹری قانون و استغاثہ سجاد حیدر کے دستخط موجود ہیں، جو گلگت بلتستان اسمبلی سیکرٹریٹ کی شق 56(5) کے تحت جاری ہوا۔ نوٹیفکیشن تمام سرکاری محکموں اور انتظامی اداروں کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ گلبر خان بھی اپنے منصب سے سبکدوش ہو جائیں گے جبکہ پوری کابینہ تحلیل ہو چکی ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری کے لیے سمری بھجوائی جا چکی ہے اور اس حوالے سے باضابطہ اعلان کل متوقع ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ کے تقرر کے بعد نگران کابینہ کے نام بھی جاری کیے جائیں گے۔
اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نگران سیٹ اپ مکمل طور پر غیر جانبدار ہو اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت عوامی مسائل کے حل میں خاطر خواہ اقدامات نہ کر سکی، اس لیے نئی نگران انتظامیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے بھی واضح کیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات مقررہ آئینی شیڈول کے مطابق ہی کرائے جائیں گے، جس کے لیے انتظامی و قانونی تیاریوں کا عمل جاری ہے۔






