منامہ: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جبکہ جلد خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر دستخط کیے جائیں گے۔ وہ منامہ میں بحرینی کاروباری برادری سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان تعلقات مذہبی، ثقافتی اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دورے کا مقصد موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی شعبے میں نئی پیشرفت کا آغاز کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے اور بحرین میں پاکستانی برادری مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دے رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ زراعت، آئی ٹی اور دیگر اقتصادی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم مضبوط تعلقات کو معاشی شراکت داری میں بدلیں۔” وزیراعظم نے بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور حکومت ان نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بحرین کے عالمی معاشی تجربے سے سیکھنے اور اپنی استعداد بڑھانے کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم نے خطاب کے اختتام پر کہا: “اگر تیزی سے جانا ہے تو اکیلے جائیں، اگر دور جانا ہے تو مل کر چلیں۔” انہوں نے کہا کہ یہ قول پاکستان اور بحرین کی مستقبل کی شراکت داری کا بہترین اظہار ہے۔
بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور بحرین کے رشتے تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں اور وزیراعظم پاکستان کی موجودگی دونوں ممالک کی دوستی کی تجدید ہے۔






