اسلام آباد : فیئر اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے 23 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹ جاری کردی، جس میں مجموعی طور پر انتخابی انتظامات کو بہتر قرار دیا گیا، تاہم انتخابی مہم کی خلاف ورزیوں اور نتائج میں شفافیت کے خلا کی نشاندہی بھی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخابات میں ووٹٹرز ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا اور زیادہ تر حلقوں میں 50 فیصد سے بھی کم ووٹرز نے حصہ لیا۔ فافن نے 122 مبصرین تعینات کیے جنہوں نے 373 پولنگ اسٹیشنز کا مشاہدہ کیا۔
رپورٹ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی متعدد خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ کئی سیاسی جماعتوں کے کیمپس پولنگ اسٹیشنز کے بالکل قریب قائم کیے گئے، جبکہ 49 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی آمد و رفت میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے سہولت کاری دیکھی گئی۔ 16 پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی مواد بھی موجود پایا گیا۔
علاوہ ازیں، خواتین، بزرگ اور معذور ووٹرز کے لیے انتظامات یکساں نہیں تھے، تاہم 93 فیصد پولنگ بوتھس پر ووٹنگ پرامن اور منظم رہی۔
فافن نے کچھ بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی، جن میں ووٹرز کو ایکسپائرڈ شناختی کارڈ پر واپس بھیجنا، 29 فیصد بوتھ پر بیلٹ پیپر پہلے سے سائن کیے جانا، اور 28 فیصد بوتھ پر بیلٹ پیپر پر پہلے سے اسٹیمپ لگانا شامل ہیں۔
مزید برآں، 6 پولنگ اسٹیشنز پر فارم 45 پولنگ ایجنٹس کو فراہم نہیں کیے گئے، 43 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر نتائج فارم پر ایجنٹس سے دستخط نہیں لیے گئے، اور 13 پولنگ اسٹیشنز پر مبصرین کو فارم 45 فراہم نہیں کیا گیا۔
فافن کی رپورٹ کے مطابق مجموعی انتظامات بہتر رہے، لیکن شفافیت اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔






