لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغان شہری ہمارے مہمان تھے لیکن اب یہ حیثیت برقرار نہیں رہی۔ ملک بھر سے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی یقینی بنائی جائے گی اور تمام متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ عرصے میں ایف سی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے اور اسلام آباد کچہری حملے میں ملوث افراد افغان شہری ہی نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہونے والی بیشتر دہشت گرد کارروائیوں میں افغان عناصر ملوث پائے گئے ہیں، اس لیے غیر قانونی افغان مہاجرین کا انخلا ناگزیر ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’’ہم مزید دھماکے برداشت نہیں کر سکتے‘‘، اس لیے ضروری ہے کہ تمام غیر قانونی افغان شہری اپنے وطن واپس جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو افراد وطن واپس بھیجے جانے کے بعد دوبارہ پاکستان آئے تو انہیں گرفتار کرکے سزا دی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا میں افغان کیمپ ختم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہر ایس ایچ او کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے علاقے میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر کے ذریعے اب تک 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں بعض حلقے غیر قانونی افغان شہریوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں جس پر تشویش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور، نوشہرہ، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں افغان کیمپ ڈی نوٹیفائی کیے گئے لیکن کچھ کیمپ اب تک فعال ہیں جنہیں فوری بند کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط خبروں پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’90 فیصد خبریں غلط ہوتی ہیں‘‘ اور فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل میڈیا ضابطوں کے تحت چلتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے امور پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، اور بیرون ملک بیٹھ کر ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کرنے والوں کو بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔






