کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر نیپا چورنگی پر مین ہول میں گر کر 3 سالہ بچے کی ہلاکت کے واقعے کے ذمہ دار 5 افسران کو معطل کر دیا گیا، اور نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرا، کے ایم سی، ٹاؤن انتظامیہ، ریونیو اور پولیس حکام شریک ہوئے۔ مراد علی شاہ نے واقعے پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جس نے بھی غفلت کی ہے، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے واضح ہدایت کی کہ تمام ذمہ دار افسران کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور چیف سیکرٹری سندھ آج ہی ان کے خلاف کارروائی شروع کریں۔
معطل ہونے والے افسران میں عمران راجپوت، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز، کے ایم سی راشد فیاض، اسسٹنٹ انجینئر، ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال وقار احمد، ایگزیکٹو انجینئر، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن عامر علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال سلمان فارسی اور مختیار کارگلشن اقبال شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق افسران کی معطلی وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب اتوار کی رات 3 سالہ ابراہیم نجی ڈیپارٹمنٹل سٹور کے باہر گٹر میں گر گیا تھا۔ بچے کی والدہ کی دردناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، اور اہلخانہ و مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت مشینری استعمال کرکے بچے کی تلاش شروع کی۔ تاہم 14 گھنٹے بعد مقامی نوجوان نے بچے کی نعش نالے سے تقریباً ایک کلومیٹر دور تلاش کی۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ محکمہ بلدیات کو بھجوائی تھی، جس میں بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیرات کو حادثے کی وجہ قرار دیا گیا۔






