کابل: افغانستان کے مختلف علاقوں سے آئے ایک ہزار سے زائد علما اور مذہبی عمائدین نے ایک اہم اجلاس میں واضح اعلان کیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں ملک کی خودمختاری، امن اور داخلی نظم سے متعلق اہم نکات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
علما نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان کے حقوق، اقدار اور شرعی نظام کا دفاع ہر شہری پر فرضِ عین ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کے مقابلے کو مقدس جہاد قرار دیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلامی امارت اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی فرد عسکری مقاصد کے لیے ملک سے باہر نہ جائے، اور نہ ہی کسی بیرونی قوت کو افغان سرزمین استعمال کرنے دی جائے۔
اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ افغانستان کی خودمختاری اور امن کو لاحق خطرات کے مقابلے میں پوری قوم کو متحد رہنا ہوگا۔ علما نے خبردار کیا کہ جو بھی فرد یا گروہ اس قومی اور شرعی فیصلے کے خلاف جائے گا، اسلامی امارت کو اس کے خلاف کارروائی کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں افغانستان کی خودمختاری کے احترام، امن کے قیام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کا اعادہ کیا گیا۔






