اسلام آباد: مشیرِ وزیراعظم سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنا موجودہ رویہ جاری رکھا تو عمران خان کی جیل منتقلی پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے۔ نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی قسم کی منتقلی کا فیصلہ نہیں ہوا، تاہم اڈیالہ جیل کے باہر دھرنوں سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا طرزِ عمل انارکی کو فروغ دے رہا ہے اور اس طریقے سے عمران خان سے ملاقات ممکن نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ رات کے اوقات میں ملاقات کا کوئی تصور نہیں، جبکہ سڑکیں بلاک کرنے سے احتجاج پرامن کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں کے بعد جو بیانات اور ٹویٹس سامنے آتے ہیں وہ دشمن ملک کے بیانیے سے میل کھاتے ہیں۔ مشیرِ وزیراعظم کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے تازہ بیانات افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر مبنی ہیں، اور اگر وہ اسی روش پر قائم رہے تو انہیں بانی ایم کیو ایم جیسے انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل نے سینیٹر عظمیٰ خان سے درخواست کی تھی کہ باہر جا کر سیاسی گفتگو نہ کریں، مگر وعدے کے باوجود ایسا کیا گیا، جبکہ جیل انتظامیہ صرف قانون کے مطابق عمل کرتی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 26 نومبر کا واقعہ بھی روزانہ کی ہونے والی انہی ملاقاتوں کا نتیجہ تھا، اور یہ طے ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل معائنہ کا اختیار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو حاصل ہے، اور حکومت ایک سال سے مذاکرات کی پیشکش کر رہی ہے۔






