اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کے تحت جاری اصلاحات کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (MEFP) میں شامل اقدامات کوئی نئی یا اچانک عائد کی گئی شرائط نہیں، بلکہ پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا تسلسل ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے پروگرام کے آغاز پر اپنی مجوزہ اصلاحاتی پالیسیاں آئی ایم ایف کو پیش کیں، جنہیں مرحلہ وار پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔ یہ اقدامات ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق EFF پروگرام میں شامل تمام اقدامات حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں، اور انہیں مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے، نیب کی کارکردگی اور خودمختاری میں بہتری، صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو مالی معلومات تک رسائی، مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی ترقی، شوگر سیکٹر میں اصلاحات، ایف بی آر میں ٹیکس اصلاحات، ڈسکوز کی نجکاری اور ریگولیٹری اصلاحات سب پروگرام کے پہلے سے طے شدہ اہداف کے مطابق ہیں۔
وزارت نے واضح کیا کہ اصلاحات کو اچانک یا غیر متوقع نئی شرائط قرار دینا حقائق سے لاعلمی کے مترادف ہے۔ حکومت کی جانب سے غیر رسمی ذرائع کی حوصلہ شکنی کے نتیجے میں مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر میں 26 فیصد سالانہ اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 2026 میں 9.3 فیصد اضافے کی توقع ہے۔






