اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس میں ان کے دو اہم اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بنچ نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔
حکمنامے میں جسٹس طارق جہانگیری کا یہ اعتراض مسترد کر دیا گیا کہ کیس کی سماعت سنگل بنچ کے بجائے دو رکنی بنچ کو نہیں کرنی چاہیے تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک ہائیکورٹ جج کی ڈگری سے متعلق سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں، اس لیے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی اختیار کے تحت دو رکنی بنچ تشکیل دیا گیا، جو چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے۔
عدالت نے تحریری حکم میں واضح کیا کہ خصوصی بنچ کی تشکیل کوئی غیر معمولی یا پہلی مثال نہیں ہے۔ اسی طرح جسٹس جہانگیری کا چیف جسٹس پر تعصب سے متعلق اعتراض بھی مسترد کر دیا گیا، کیونکہ اس حوالے سے کوئی قانونی بنیاد فراہم نہیں کی گئی۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے 1966 سے 2023 تک کے متعدد فیصلوں میں جج پر تعصب کی بنیاد پر اعتراض اور بنچ سے علیحدگی کے اصول واضح طور پر طے کیے جا چکے ہیں، جبکہ جسٹس طارق جہانگیری چیف جسٹس کے خلاف کسی ایک بھی قانونی وجہ کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جسٹس جہانگیری سمیت دیگر ججز کی چیف جسٹس کے تبادلے کے خلاف دائر اپیل پہلے ہی وفاقی آئینی عدالت سے مسترد ہو چکی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے حکم دیا کہ جسٹس طارق جہانگیری کو کیس سے متعلق مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے، جس میں یونیورسٹی کی جانب سے جمع کرایا گیا مکمل جواب اور دیگر دستاویزات شامل ہوں گی۔ تاہم اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کو فریق بنانے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔






