اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 11 ویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے سلسلے میں مختلف امور پر غور اور سفارشات کی تیاری کے لیے 8 اہم ورکنگ گروپس قائم کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ورکنگ گروپس این ایف سی سے متعلقہ معاملات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور جامع سفارشات تیار کرنے کے لیے کام کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی دائرہ اختیار سے متعلق اخراجات پر سفارشات کے لیے قائم ورکنگ گروپ کی سربراہی وزیر خزانہ پنجاب کریں گے، جبکہ مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے تناسب پر غور کے لیے ایک الگ ورکنگ گروپ وزیر خزانہ بلوچستان کی قیادت میں کام کرے گا۔
قومی قرضوں کی ساخت اور اس کے استعمال کے لیے ایک خصوصی ورکنگ گروپ بنایا گیا ہے، جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بہتر بنانے کے لیے قائم ورکنگ گروپ کی سربراہی وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کریں گے۔
مزید برآں، صوبوں کو وسائل کی براہِ راست منتقلی سے متعلق ورکنگ گروپ وزیر خزانہ سندھ کی قیادت میں کام کرے گا۔ سابق فاٹا کے انضمام اور این ایف سی شیئر کے حوالے سے ایک اور ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے، جبکہ قابل تقسیم پول کی ساخت پر غور کے لیے ورکنگ گروپ کی سربراہی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کریں گے۔
ذرائع کے مطابق این ایف سی سے متعلق دوسرا اجلاس آئندہ ماہ جنوری کے وسط تک متوقع ہے، جس میں تمام ورکنگ گروپس کی تیار کردہ سفارشات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔






