بانی پی ٹی آئی کے بیٹے بتائیں کس حیثیت میں پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں؟ عطا تارڑ

بانی پی ٹی آئی کے بیٹے بتائیں کس حیثیت میں پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں؟ عطا تارڑ 0

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کا پاکستان پر تنقید کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ ان کے پاس پاکستانی شہریت بھی موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی پاسداری ہر شہری کے لیے لازم ہے اور اڈیالہ جیل کسی صورت جلسہ گاہ نہیں بن سکتی۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ جیل کے باہر سڑکیں بلاک کرنا ناقابل قبول ہے، جو بھی قانون ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کی اجازت کسی کی خواہش پر نہیں دی جا سکتی اور جیل رولز کی خلاف ورزی کی صورت میں ملاقات ممکن نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جیل کوئی سیاسی دفتر یا پنچایتی ڈیرہ نہیں، ماضی میں نواز شریف کی بیٹی کو ان کے سامنے گرفتار کیا گیا اور اس پر کسی بین الاقوامی فورم پر جواب دہی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی دور میں نواز شریف سے تین ماہ تک ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، حتیٰ کہ ان کے ذاتی معالج سے بھی ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ جلسوں کے لیے غریبوں کے بچوں کو سڑکوں پر لایا جاتا ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے ویزوں کے منتظر ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بانی پی ٹی آئی کے بیٹے پاکستانی شہری ہی نہیں تو وہ کس حیثیت میں پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف سے بات چیت اسی صورت ممکن ہوگی جب وہ بانی پی ٹی آئی کے بیانیے سے دستبردار ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے باضابطہ طور پر کوئی رابطہ نہیں کیا، جبکہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دستیاب ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کے رویے میں واضح تبدیلی آئی ہے اور وہ اب امن و امان کے معاملات پر بھی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق این ایف سی اجلاس میں بھی سہیل آفریدی کی شرکت ہوئی، جو مثبت پیش رفت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں