قوم کے عظیم ہیرو، نشانِ حیدر یافتہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا 54 واں یومِ شہادت آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سروسز چیفس نے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانی کو سلام کیا۔
یومِ شہادت کے موقع پر دن کا آغاز قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں سے کیا گیا، جہاں علماء کرام نے شہید کے درجات کی بلندی اور ملکی سلامتی کے لیے دعائیں کیں۔ مختلف تقریبات میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بہادری اور وطن کے لیے دی گئی لازوال قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید 25 اکتوبر 1944ء کو ضلع راولپنڈی کے علاقے پنڈ ملکاں میں پیدا ہوئے اور 1962ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران واہگہ بارڈر پر انہوں نے غیر معمولی جرات اور دلیری کا مظاہرہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنگ کے دوران بھارتی فوج کی شدید شیلنگ سے محمد محفوظ شہید کی مشین گن تباہ ہو گئی اور دونوں ٹانگیں زخمی ہو گئیں، مگر اس کے باوجود انہوں نے دشمن کے اس بنکر پر حملہ کیا جہاں سے پاک فوج کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ شدید زخمی حالت میں بھی انہوں نے دشمن سپاہی کو قابو میں لے لیا، تاہم دوسرے بھارتی فوجی کے خنجر کے وار سے وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بہادری کا اعتراف بھارتی فوج نے بھی کیا۔ ان کی بے مثال قربانی کے اعتراف میں 23 مارچ 1972ء کو انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا، جبکہ ان کے آبائی گاؤں پنڈ ملکاں کا نام تبدیل کر کے محفوظ آباد رکھ دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا یومِ شہادت افواجِ پاکستان کی جانب سے مادرِ وطن کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کی روشن مثال ہے۔ پوری قوم کو اپنے ان بہادر سپوتوں پر فخر ہے جنہوں نے پاکستان کی عزت و سربلندی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔






