امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں قاتلوں اور جرائم پیشہ افراد کو امریکا میں داخلے کی اجازت دی گئی، تاہم ان کی حکومت غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک میں داخل نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تحفظ کو یقینی بنایا جا چکا ہے اور اس حوالے سے سخت پالیسی جاری رہے گی۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں کرپٹ نظام کے خاتمے کے لیے بھاری مینڈیٹ ملا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایک سال کے دوران ان کی حکومت نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو ماضی میں کوئی حاصل نہ کر سکا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ان کی حکومت نے متعدد عالمی تنازعات رکوانے، ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے اور غزہ کی جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو نئے صدر کی ضرورت تھی، جس کے بعد ملک بدترین حالات سے نکل کر بہتر راستے پر گامزن ہوا۔ ان کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئی، تنخواہوں میں اضافہ ہوا اور روزگار کے مواقع میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ اس وقت امریکا میں برسرِ روزگار افراد کی تعداد ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل امریکا معاشی طور پر مشکلات کا شکار تھا، تاہم اب کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن بنائی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ٹیکسوں میں کمی کے مثبت نتائج آئندہ سال سامنے آئیں گے، جبکہ ٹیرف پالیسی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بائیڈن دور کی گرین انرجی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں غیرقانونی تارکینِ وطن نے نوکریاں حاصل کیں، جبکہ ان کی حکومت میں نئی نوکریاں امریکا میں پیدا ہونے والے شہریوں کو فراہم کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایک بار پھر عظیم بنایا جا رہا ہے اور سرحدوں کو محفوظ کر دیا گیا ہے۔
خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ بائیڈن دور کی پالیسیاں دوبارہ نافذ نہیں ہونے دی جائیں گی۔ انہوں نے امریکا میں ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات کا اعلان کیا اور کہا کہ کرسمس کے موقع پر امریکی فوجیوں کو فی کس 1776 ڈالر دیے جائیں گے۔






