پشاور: خیبر پختونخوا میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے محکمہ صحت اور عوام دونوں کے لیے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں رواں سال کے دوران کتے کے کاٹنے کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
محکمہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں کتے کے کاٹنے کے مجموعی طور پر 87 ہزار 364 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سال 2024 میں یہ تعداد 60 ہزار 223 تھی۔ اس طرح ایک سال میں 27 ہزار سے زائد اضافی کیسز سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع مردان رہا، جہاں 13 ہزار 328 افراد کتے کے کاٹنے سے متاثر ہوئے۔ پشاور میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں 2024 میں 655 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، تاہم 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 4 ہزار 558 تک پہنچ گئی، یعنی صرف ایک سال میں 3 ہزار 900 سے زائد نئے واقعات سامنے آئے۔
دیگر اضلاع میں بھی اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ سوات میں 7 ہزار 335، لکی مروت میں 7 ہزار 274، ایبٹ آباد میں 2 ہزار 683، ہری پور میں 3 ہزار 795، بونیر میں 3 ہزار 880، شانگلہ میں 2 ہزار 534 اور دیر لوئر میں 5 ہزار 576 کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق چارسدہ میں کتے کے کاٹنے کے 1 ہزار 233 جبکہ نوشہرہ میں 1 ہزار 731 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ماہرین صحت نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور متعلقہ اداروں پر آوارہ کتوں کے مسئلے کے فوری حل پر زور دیا ہے۔






