اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے نہ صرف صومالیہ کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے یکطرفہ اور اشتعال انگیز اقدامات کو مسترد کرے اور اسرائیل کو خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے سے روکے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور وہاں دیرپا امن کے قیام کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
بیان میں فلسطین کے معاملے پر بھی پاکستان کے مؤقف کو دہرایا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کو کسی صورت قبول نہیں کرتا اور ان کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بھی صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل اور صومالی لینڈ کے درمیان باہمی تسلیم کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔
ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال وہ ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کرتے۔ تاہم اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن چکا ہے، جس پر عالمی سطح پر مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔






