کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پاکستان مخالف بیانیہ بنا کر سیاست کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، اور جب ان معاملات کی انکوائری ہوگی تو یہ سب کے لیے سنجیدہ مسئلہ بن سکتا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موجودہ بیانیہ انتہائی تشویشناک ہے اور اس کا دائرہ دہشت گردی کے زمرے تک جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے برطانیہ میں پاکستان کے خلاف کی جانے والی گفتگو قابلِ مذمت ہے اور ایسے اقدامات قومی مفادات کے خلاف ہیں۔
کامران ٹیسوری نے اوورسیز پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں پاکستان مخالف پروپیگنڈے سے دور رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اندرونِ ملک بیانیہ ناکام ہو چکا ہے، اب بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کو قتل کی دھمکیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور جو بھی پاکستان کے خلاف بیانیہ بنائے گا، اس کی مخالفت کی جائے گی۔
گورنر سندھ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا نفرت انگیز بیانیہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا اور اس جماعت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اپنے بانی سے لاتعلقی اختیار کرنی چاہیے۔
اس موقع پر چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گورنر سندھ نے ایک نہایت اہم قومی مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موجودہ لب و لہجہ ملکی سیاست میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، اور پارٹی کو شخصیات سے بالاتر ہو کر ملک کے مفاد میں کھڑا ہونا ہوگا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں شمولیت کے وقت واضح شرائط رکھی تھیں، جن میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی شامل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 15 برسوں میں سندھ حکومت کو 22 ہزار ارب روپے ملے، جن میں سے 11 ہزار ارب روپے کراچی کے حصے کے تھے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے 11 ارب روپے بھی کراچی پر خرچ کیے گئے؟
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ کراچی کو دانستہ طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے مدد مانگی گئی، مگر سندھ حکومت کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔






