یوکرین امن معاہدے کے قریب پہنچ گئے، کُچھ مسائل ابھی حل طلب ہیں: ٹرمپ

یوکرین امن معاہدے کے قریب پہنچ گئے، کُچھ مسائل ابھی حل طلب ہیں ٹرمپ 0

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی سے ملاقات کو مثبت اور حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین امن منصوبے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم چند اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ملاقات میں امن منصوبے کے کئی نکات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور فریقین کسی حتمی معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مسائل ایسے ہیں جن پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے، لیکن مجموعی طور پر پیش رفت اطمینان بخش ہے۔

امریکی صدر نے یوکرینی وفد کی میزبانی کو اعزاز قرار دیا، جبکہ صدر زیلینسکی نے ملاقات کو اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ زیلینسکی کے مطابق 20 نکاتی امن منصوبے کا بڑا حصہ طے پا چکا ہے اور امریکا کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی سکیورٹی ضمانتوں پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔

سکیورٹی ضمانتوں سے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاملہ تقریباً حتمی مرحلے میں ہے، تاہم وہ معاملات کو فیصد میں بیان کرنے کو ترجیح نہیں دیتے۔

امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی ملاقات مناسب وقت پر ممکن ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے پیوتن سے طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں امن عمل اور آئندہ ملاقاتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈونباس میں فری ٹریڈ زون کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاملہ تاحال حل طلب ہے، لیکن اس پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سب سے مشکل مسئلہ متنازع علاقوں میں کنٹرول اور سرحدی معاملات کا ہے، جس پر آنے والے مہینوں میں بات چیت متوقع ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین نے اس تنازع کے دوران غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ یوکرین کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ترجیح یہ ہے کہ پہلے امن معاہدہ طے پا جائے۔

امریکی صدر نے یوکرینی پارلیمنٹ سے خطاب کی پیشکش بھی کی، جس پر صدر زیلینسکی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی صدر کو ہمیشہ خوش آمدید کہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں