پی ٹی آئی کو انتہا پسندی چھوڑ کر سیاست کے دائرے میں آنا چاہئے: بلاول بھٹو

پی ٹی آئی کو انتہا پسندی چھوڑ کر سیاست کے دائرے میں آنا چاہئے بلاول بھٹو 0

لاڑکانہ: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی اور سیاسی مسائل کا حل انتہا پسندی میں نہیں بلکہ مفاہمت، جمہوری طرزِ سیاست اور سیاسی استحکام میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی ترقی اور پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی قوتیں جمہوری حدود میں رہ کر کردار ادا کریں۔

لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو معاشی بحران اور محدود مالی گنجائش سے نکلنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کو سنجیدگی سے اپنانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر حکومت معاشی مسائل، خصوصاً فسکل اسپیس کے چیلنج کو مؤثر انداز میں حل کرنا چاہتی ہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو سندھ حکومت کے کامیاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل سے سیکھنا چاہیے، جو نہ صرف صوبے میں مؤثر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی پذیرائی ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق معروف عالمی جریدے اکانومسٹ نے سندھ کے اس ماڈل کو خطے میں چھٹا نمبر دیا، جو اس کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش تشریف لائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ملاقات صرف برسی کے حوالے سے تھی اور اس میں کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر سیاسی راستے تلاش کرنے چاہئیں تاکہ سیاست کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور قومی سلامتی جیسے بڑے مسائل کا دیرپا حل کسی ایک جماعت کی طویل حکمرانی نہیں بلکہ حقیقی اور مضبوط سیاسی استحکام ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کی برسی پر انہی کے نظریے اور پیغام کے مطابق بات کر رہے ہیں، جس کی بنیاد مفاہمت اور برداشت پر تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاست انتہا پسندی کی بنیاد پر کی جائے گی تو اس کے ردعمل میں سختی پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، اور کسی گرفتاری یا قانونی کارروائی کے جواب میں قومی اداروں پر حملے درست نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تجربے اور تاریخ کی روشنی میں ان کی واضح رائے یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو انتہا پسندانہ سیاست ترک کر کے جمہوری دائرے میں واپس آنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ قدم نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ ملک کی مجموعی جمہوری سیاست اور عوام کے مفاد میں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں