ملک میں کوئی سیاسی افراتفری نہیں، مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے: رانا ثنا اللہ

ملک میں کوئی سیاسی افراتفری نہیں، مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے رانا ثنا اللہ 0

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کسی قسم کی سیاسی افراتفری نہیں پائی جاتی اور موجودہ سیاسی مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ لاہور دورے پر ردِعمل دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لاہور میں ایسی کوئی صورتحال سامنے نہیں آئی جہاں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوں۔ ان کے مطابق نہ ہزاروں افراد کی ریلی دیکھی گئی اور نہ ہی کوئی غیر معمولی عوامی ردِعمل سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے ہمراہ صرف 50 سے 100 افراد موجود تھے جو پنجاب اسمبلی کے اندر دھکم پیل کرتے دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں روزانہ کی بنیاد پر میڈیا کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کر رہی ہیں، جس سے یہ واضح ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی بحران موجود نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم متعدد بار پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں، حتیٰ کہ یہ آپشن بھی دیا گیا کہ اگر وزیراعظم ہاؤس آنا مناسب نہیں تو سپیکر آفس میں بات چیت کی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی مذاکرات اور مکالمے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور اب تک اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بات چیت کے حامی نہیں، تاہم بیرسٹر گوہر اور پی ٹی آئی کے چند سینئر رہنما مذاکرات کے حق میں نظر آتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اور گالم گلوچ بریگیڈ اپنی ہی قیادت کو نشانہ بناتا ہے۔ ان کے مطابق علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو ملاقات کے دوران یہ کہا گیا کہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اور اس کے بجائے سڑکوں پر احتجاجی مہم چلائی جائے۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دورِ حکومت میں اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھا، اس لیے اب مذاکرات کی بات کرنا محض ایک دعویٰ محسوس ہوتا ہے۔

آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کی کوشش کی تو وہ ناکام ہوگی، اور اگر کسی بھی قسم کی انارکی یا بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی تو حکومت قانون کے مطابق سخت کارروائی کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں