اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تعاون سے ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو پاکستان میں معدنی وسائل کی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
پاکستان میں معدنی شعبے کو فروغ دینے کے لیے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کا انعقاد 8 تا 9 اپریل کو اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ یہ فورم عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرے گا، جہاں معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے جائیں گے۔ فورم کا ایک اہم حصہ معدنی نمائش پر مبنی ہوگا، جس میں عالمی سطح پر کام کرنے والی معروف کمپنیاں شرکت کریں گی۔
ایس آئی ایف سی کی بھرپور معاونت کے باعث بیریک گولڈ، او جی ڈی سی ایل (OGDCL) اور پی پی ایل (PPL) کے اشتراک سے ریکوڈک منصوبے میں معدنی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے ریکوڈک منصوبے کے لیے 627 ملین ڈالر کی اضافی فنڈنگ کی منظوری دے دی ہے، جس سے نہ صرف کان کنی کے شعبے کی ترقی ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع میں اضافہ اور پاکستانی معیشت کو فروغ ملے گا۔
ریکوڈک کان کنی منصوبہ 37 سالہ دورانیے پر مشتمل ہے، جس کے پہلے مرحلے میں 5.6 بلین ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ منصوبے کے تحت 2028 تک سالانہ 45 ملین ٹن پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 2034 تک اس کی پیداواری صلاحیت 90 ملین ٹن سالانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اس منصوبے سے پاکستان کو 13.1 ملین ٹن تانبہ اور 17.9 ملین اونس سونے کے ذخائر حاصل ہوں گے، جو نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور بلوچستان کے عوام کو اس ترقی سے براہ راست فائدہ ہوگا۔
ریکوڈک منصوبے کی توسیع سے پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور ملک کی درآمدات پر انحصار کم ہوگا، جس سے قومی معیشت کو مزید استحکام ملے گا۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے یہ سرمایہ کاری پاکستان کی عالمی سطح پر معدنی اہمیت کو اجاگر کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔